10 اکتوبر 2013 - 20:30
امریکہ، اوباما اور حزب اختلاف رہنماوں کے مذاکرات ناکام

امریکہ میں جاری بحران کے مد نظر قرضوں کی حد میں مختصر مدت کی توسیع کے مسئلہ پر حزب اختلاف کے رہنماؤں اور اوباما کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات ناکام رہی اور کوئی معاہدہ طے نہیں ہو پایا ہے۔

ابنا: امریکہ میں جاری بحران کے مد نظر قرضوں کی حد میں مختصر مدت کی توسیع کے مسئلہ پر حزب اختلاف کے رہنماؤں اور اوباما کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات ناکام رہی اور کوئی معاہدہ طے نہیں ہو پایا ہے۔ اوباما نے ایوان نمائندگان میں اکثریتی جماعت ریپبلکن کے رہنماؤں سے ملاقات میں قرضوں کی حد میں 6 ہفتوں کی عارضی طور پر اضافے کی پیشکش پر بات چیت کی تاکہ دیوالیہ ہونے سے بچا جا سکے۔حزب اختلاف پیشکش کے بدلے میں صدر اوباما سے بجٹ پر مذاکرات چاہتی ہے۔تاہم اطلاعات کے مطابق صدر اوباما نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اوباما کے ساتھ ملاقات سے پہلے ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوینر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم قرضوں کی حد میں عارضی طور پر اضافے کی پیشکش کے ساتھ بجٹ پر بات چت چاہتے ہیں تاکہ شٹ ڈاؤن یعنی وفاقی محکموں کی بندش کو ختم کیا جا سکے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں گذشتہ دس دنوں سے معطل ہیں۔ اسپیکر جان بوینر کے ترجمان کے مطابق قرضوں کی حد میں وقتی اضافے کی پیشکش بائیس نومبر تک ہو گی۔بدھ کو براک اوباما نے کہا تھا کہ رپبلکن پارٹی کو ملکی معیشت کے خلاف دھمکیوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔امریکی صدر نے قرضوں کی حد میں اضافے اور حکومتی سرگرمیوں کی بحالی کے بدلے میں پالیسی رعایت کے مطالبے کو ’بھتہ خوری‘ قرار دیا تھا۔خیال رہے کہ امریکہ میں ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے آٹھ لاکھ سے زیادہ ملازمین کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲